سرسی :28؍مئی (ایس اؤ نیوز) شمالی کینرا کے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے کے نام کااستعمال کرتےہوئے ایک لڑکی لاکھوں روپیوں کاجھانسہ دئیے جانےکےمتعلق میسور کے کوئمپو نگر کے پولس تھانےمیں کیس درج ہواہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق سرسی سے تعلق رکھنے والی ریکھا ہیگڈے عرف مئیتری نامی لڑکی نے شمالی کینرا کے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے کو اپنا ماموں بتاکر جھوٹ کے سہارے میسور کی منجولا نامی عورت سے قریب 7لاکھ روپئے نقد اینٹھے ہیں۔ میسور میں اپنا ذاتی گھر خریدنےکے مقصد سے ریکھا نے یہ رقم حاصل کی ہے۔ اس کے علاوہ ریکھا نے بتایا کہ وہ انفوسس میں ملازمت کرتی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ شرائط کے مطابق ریکھا کو 11فروری کو لی ہوئی رقم لوٹانی تھی لیکن رقم لوٹانے کے بجائے وہ میسور سے ہی لاپتہ ہوگئی ۔ اس کے بعد منجولا نے موبائیل پر رابطہ کرتے ہوئے رقم لوٹانے کی التجا کی تو اس نے بینک کھاتے کے ذریعے ڈھائی لاکھ روپیہ جمع کرایا اس کے بعد منجولا نے بقیہ رقم کی مانگ کی تو رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے کا نام بتا کر جان سےمارنےکی دھمکی دے ڈالی۔ منجولانے معاملے کو لےکر جب اپنے رشتہ داروں سے بات کی تو پتہ چلا کہ وہ فریب کا شکارہوگئی ہے۔ جب یہ معاملہ رکن پارلیمان کے سامنے پیش کیاگیا تو پتہ چلا کہ ریکھا ہیگڈے نہ ہی رکن پارلیمان کی رشتہ دار ہے اور نہ ہی وہ اس کو جانتے ہیں۔ تب منجولا نے میسور کےکوئمپو نگر پولس تھانے میں ریکھا کے خلاف فریب دہی کا کیس درج کرایا۔ پتہ چلا ہے کہ رکن پارلیمان کے پرسنل سکریٹری سریش شٹی نے بھی رکن پارلیمان کا نام استعمال کئے جانے پر الگ سے سرسی پولس تھانے میں بھی شکایت درج کرائی ہے۔